Sunday, May 31, 2020

فتنہ بیکن ھاؤس ..



کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی "سکول" کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟

بیکن ھاؤس کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب  طلباء و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔

پھر وہاں کے پڑھائے جانے والے نصابی کتب کے سکرین شاٹس شیر ہوئیں جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو " انڈین سٹیٹس" لکھا گیا تھا۔
اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔

بیکن ھاؤس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے بیکن ھاؤس کے سابق ملازم ارمغان حلیم صاحب کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اٹھانے پر شدید زدوکوب کیا گیا اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔

بیکن ھاؤس اور اس کے ذیلی ادارے " دی ایجوکیٹر " میں انڈین سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا۔ 1996ء میں ان سکولوں میں ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے " انٹرنیشنل فائنیس گروپ " نے براہ راست کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کی۔

بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔

یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتا ہے۔ یہ خاندان اس تعلیمی ادارے کی بدولت کھرب پتی بن چکا ہے۔

خورشید محمود قصوری وہی صاحب ہیں جس نے پندرویں آئینی ترمیم ( شریعہ بل ) کے خلاف احتجاجاً استعفی دیا تھا۔ ( شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے )

لبرل ازم کا علمبرادار " بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائیٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنسمین اور وڈیرے شامل ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ (جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اہم ترین جز ہے۔  🙂 )

پاکستان کے اعلی ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں جاتا۔

اگر بیکن ھاؤس اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو آنے والے پانچ سے دس سالوں میں پاکستان ایک لبرل ریاست بن چکا ہوگا جس کے بعد اس کے وجود کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ ۔۔

۔۔ " ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے"

بیکن ھاؤس نے " تعلیم " کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔

اس " عفریت " کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔

بیکن ھاؤس کے حوالے سے جلد ہی دوبارہ نہ صرف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا بلکہ محب وطن میڈیا چینلز اور حکومت وقت سے بھی اس حوالے سے کاروائی کا مطالبہ کیا جائیگا۔
SAGHAR

Friday, May 29, 2020

٠ " کاش وہ جہالت پھر لوٹ آئے "


ہم نے جب اپنے معاشرے میں آنکھ کھولی تو ایک خوبصورت جہالت کا سامنا ہوا ۔ ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تو محروم تھا لیکن اطمینان اس قدر تھا جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو ۔

کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسر تھی وہ تھی محبت ۔ کوئی غیر نہیں تھا سب اپنے تھے ۔ نانیال کی طرف والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ددیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔

یہ تو جب ہمیں نیا شعور ملا تو معلوم پڑا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے ۔

ہمارے بزرگ بڑے جاہل تھے کام ایک کا ہوتا تو سارے ملکر کرتے تھے ۔ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرنا شروع کر دیتے ۔
گھاس کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بلکہ گھاس کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں ۔ پاگل تھے گھاس کٹائی پر ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو ۔

جب کوئی گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑ دشوار راستوں سے اپنے کندھوں پر اٹھا کے لاتے پھر کئی ٹن مٹی چھت پر ڈالتے اور شام کو گھی شکر کے مزے لوٹ کر گھروں کو لوٹ جاتے ۔

جب کسی کی شادی ہو تو دولہے کو تو مہندی لگی ہی ہوتی تھی باقی گھر والے بھی جیسے مہندی لگائے ہوں کیونکہ باقی جاہل خود آکر کام کرنا شروع کر دیتے ۔ اتنے پاگل تھے کہ اگر کسی سے شادی کی دوستی کر لیں تو اسے ایسے نبھاتے جیسے سسی نے کچے گڑھے پر دریا میں چھلانگ لگا کر نبھائی ۔۔

مک کوٹائی( مکئی) ایسے ایک ایک دانہ صاف کرتے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے بال سنوارے ۔
کتنے پاگل تھے کنک (گندم) گوائی پر تپتی دھوپ میں بیلوں کے ساتھ ایسے چکر کاٹتے جیسے کوئی سزا بھگت رہے ہوں ۔

اگر کوئی ایک فوت ہو جاتا یا جاتی تو دھاڑیں مار مار کر سب ایسے روتے کہ پہچان ہی نہ ہو پاتی کہ کس کا کون مرا ۔۔
دوسرے کے بچوں کی خوشی ایسے بناتے جیسے انکی اپنی اولاد ہو ۔۔

اتنے جاہل تھے کہ جرم اور مقدموں سے بھی واقف نہ تھے ۔

لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی اب نئی جنریشن کا دور تھا کچھ پڑھی لکھی باشعور جنریشن کا دور جس نے یہ سمجھنا اور سمجھانا شروع کیا کہ ہم بیشک سارے انسان ہوں بیشک سب مسلمان بھی ہوں لیکن ہم میں کچھ فرق ہے جو باقی رہنا ضروری ہے ۔

وہ فرق برادری کا فرق ہے قبیلے کا فرق ہے رنگ نسل کا فرق ہے ۔
اب انسان کی پہچان انسان نہ تھی برداری تھی قبیلہ تھا پھر قبیلوں میں بھی ٹبر تھا ۔

اب ہر ایک ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میرا مرتبہ بلند ہے اور میری حثیت امتیازی ہے ۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دوسرے کو کم تر کہے اور سمجھے ۔ اب ہر کوئی دست و گریباں تھا اور جو کوئی اس دوڑ میں شامل نہ ہوا تو وہ زمانے کا بزدل اور گھٹیا انسان ٹھہرا ۔

اب گھر تو کچھ پکے اور اور بڑے تھے لیکن پھر بھی تنگ ہونا شروع ہو گے ۔ وہ زمینیں جو ایک دوسرے کو قریب کرتی تھیں جن کا پیٹ چیر کر غلہ اگتا تھا جس کی خوشبو سے لطف لیا جاتا تھا اب نفرت کی بنیاد بن چکی تھیں ۔

شعور جو آیا تھا اب ہر ایک کو پٹواری تحصیلدار تک رسائی ہو چلی تھی اور پھر اوپر سے نظام وہ جس کا پیٹ بھرنے کو ایک دوسرے سے لڑنا ضروری تھا ۔

اب نفرتیں ہر دہلیز پر پہنچ چکی تھیں ہم اپنی وہ متاع جسے محبت کہتے ہیں وہ گنوا چکے تھے ۔ اب انسانیت اور مسلمانیت کا سبق تو زہر لگنے لگا تھا اب تو خدا بھی ناراض ہو چکا تھا ۔

پھر نفرتیں اپنے انجام کو بڑھیں انسان انسان کے قتل پر آمادہ ہو چلا تھا ۔ برتری کے نشے میں ہم گھروں کا سکون تباہ کر چکے تھے ہم بھول چکے تھے کہ کائنات کی سب سے بڑی برتری تو اخلاقی برتری ہوتی ہے ۔

اب اخلاق سے ہمارا تعلق صرف اتنا رہ چکا تھا کہ صرف ہمارے گاوں کے دو بندوں کا نام اخلاق تھا لیکن ہم نے ان کو بھی اخلاق کہنا گوارہ نہ کیا ایک کو خاقی اور دوسرے کو منا بنا دیا ۔۔۔

اب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے کی وجہیں ڈھونڈنے میں لگے تھے ۔ پھر قدرت نے بھی معاف نہ کیا اس نے بھی ہمیں موقع دے دیا ۔

مار دھاڑ سے جب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تو بات قتل پر آ گئی ۔ اب ایک تسلسل سے یہ عمل جاری ہے ۔ اب تو ہم اخباروں اور ٹی وی کی زینت بھی بن گے ۔ اب شاید ہی کوئی ایسا دن ہو گا جس دن عدالتوں میں ہمارے گاؤں کا کوئی فرد کھڑا نہ ہو ۔

ایف آئی آر اتنی ہو چکی کہ اب ڈھونڈنا پڑتا ہےکہ کیا ہمارے گاؤں کا کوئی ایسا فرد بھی ہے جس پر کوئی کیس نہ ہو ۔

اب ان جاہل بزرگوں میں سے کم ہی زندہ ہیں جو زندہ ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ان میں سے اگر کوئی مرتا ہے تو دوسرا اس کا منہ دیکھنے کی خواہش کرتا ہے لیکن ہم باشعور لوگ اسے یہ جاہلانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے ہماری توہین کا خدشہ درپیش ہے ۔۔


ہر کوئی اندر سے ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر بھی بضد ہے ۔ وہ نفرت کا اعلاج نفرت سے ہی کرنا چاہتا ہے ۔ اب محبت کا پیغام برادری قبیلے سے غداری سمجھا جاتا ہے ۔ اب دعا بھی صرف دعا خیر ہوتی ہے دعا خیر کا ایک عجب مفہوم نکال رکھاہے ۔ ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کر کے اس کیساتھ مکمل بائیکاٹ کا نام دعا خیر رکھ دیا گیا ہے

لیکن ۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ؟

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم آج بھی سنبھل جائیں اپنے اندر کی ساری نفرتیں مٹا کر دوسرے کے حق میں دعا کرنے کی کڑوی گولی کھا لیں ۔ پھر ممکن ہے اللہ بھی معاف فرما دے اور ہم اس نفرت کی آگ سے نکل آئیں تاکہ کوئی بچہ یتیم نہ ہو کسی اور کا سہاگ نہ اجڑے کسی اور کی گود خالی نہ ہو ۔ تاکہ ہم زندگی جیسی قیمتی نعمت کو جی سکیں اس کائنات کے حسن سے لطف اندوز ہو سکیں
اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکیں کہ وہ شعور ،عمل و کردار کی ان بلندیوں پر جائیں کہ وہ خوبصورت جہالت پھر لوٹ آئے جس نے انسانوں کو اعلی اخلاق کے درجے پر کھڑا کر رکھا تھا ۔

Wednesday, April 15, 2020

کل سے درج ذیل شعبہ جات سے منسلک افراد کو کاروبار کھولنے کی اجازت ہوگی

کل سے درج ذیل شعبہ جات سے منسلک افراد کو کاروبار کھولنے کی اجازت ہوگی
پلمبر
حجام
الیکٹریشن
مکینک
زرعی مشنری مکینک
سیمنٹ پلانٹ
کھاد انڈسٹری
اینٹوں کے بھٹے
ڈرائی کلینر
بلڈنگ میٹیریل
سینٹری شاپ
ماربلز فیکٹریز
ٹائلز شاپ
ٹیلر
کریانہ
دودھ دھی کی شاپز صبح 6 سے رات9
ویٹرنری اسپتال
ای کامرس
سافٹ وئیر ڈویلمنگ
فلاحی تنظیموں کے دفاتر
منرلز پلانٹ
بک شاپ 
فوٹوکاپی شاپ
کارپینٹرز
رنگ ساز
مستری
مزدور
میڈیکل سٹورز 24 گھنٹے
الیکٹرک سٹور
شٹرنگ سٹور
بیکریز
بنک
ہاردویئر شاپ
لیبارٹریز
نجی ہاسپیٹلز
میڈیا انڈسٹری
وغیرہ صبح سے 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلے گی
ماسک ضروری قرار دیا گیا. ہر شاپ پر ہینڈ سینٹائزر ہونا لازمی

Monday, April 13, 2020

یوکرین کے صدر کا کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے والے سائنسدانوں کیلئے 1 ملین ڈالر انعام کا اعلان

یوکرین کے صدر نے کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے والے سائنسدانوں کیلئے 1 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ یوکرین میں اب تک 93 ہلاکتیں اور 3102 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق یوکرین صدر کی ترجمان نے کہا ہے کہ یہ صدر کا خیال ہے کہ یہ ایک پرکشش انعام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ویکسین تیار ہو تاکہ ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صدر چاہتے ہیں کہ سائنسدان مزید سرگرم ہو کر ویکسین کی تیاری کو یقینی بنائیں تاکہ پوری دنیا کی مدد کی جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی کورونا کی ویکسین کی تیاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کی ایک سے دوسرے شخص تک منتقلی کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس کی ویکسین تیار کی جائے۔ کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد ہلاکتیں اور متاثرین کی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

امارات میں کورونا مریضوں کے نام اورتفصیلات ظاہر کرنے والوں کو سزا اور جرمانہ ہو گا

 امارات میں پولیس کی جانب سے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کورونا کے تصدیق شدہ یا مشتبہ مریضوں کے نام اور دیگر تفصیلات سوشل میڈیا پر ظاہر کرنے سے باز رہیں، ورنہ انہیں قید اور جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔عجمان پولیس کے مطابق کئی سوشل میڈیا صارفین اپنے جاننے والوں یا ہمسایوں کو سوشل میڈیا پر کورونا کا مریض ظاہر کر رہے ہیں یا پھر ان کے کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں سے رابطے میں رہنے کے دعویٰ کر رہے ہیں۔
ان لوگوں کو اپنے غیر ذمہ دارانہ رویئے سے باز رہنا چاہیے۔ جو لوگ کورونا کے تصدیق شدہ یا مشتبہ مریضوں اور ان کے گھر والوں کی شناخت ظاہر کر رہے ہیں اور تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں، ان کا یہ عمل لوگوں کی پرائیویسی کو متاثر کرنے اور انہیں 
جو صارفین کورونا کے مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے لیے اپنی جانب سے ادویہ یا علاج تجویز کر رہے ہیں یا ان کی شناخت ظاہر کر کے ان کے حق میں دعائیں اپنی جانب سے نیک عمل کر رہے ہیں، انہیں بھی جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق سینکڑوں افراد کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی ہیں کہ کچھ سوشل میڈیا صارفین ان کی کورونا کے حوالے سے تشہیر کر کے ان کی بدنامی کر رہے ہیں۔
پولیس کی جانب سے ان تمام شکایتوں پر تفتیش شروع کر دی گئی ہے، ذمہ داروں کو قانونی کارروائی سے گزرنا ہو گا۔لوگوں کو نجی زندگی سے متعلق پوسٹ کرنے، اس پر کمنٹس اور انہیں شیئر کرنے سے بھی باز رہنا ہو گا۔ کورونا کے کسی مریض کی ہسپتال، سڑک یا کسی اور مقام پر لی گئی تصویر کو شیئر کرنے پر بھی پولیس کارروائی کرے گی۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ان تمام خلاف قانون حرکات کرنے والوں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں کرفیو یا سیکیورٹی اہلکاروں کا مذاق بنانے والوں کو بھی پولیس گرفتار کرنے کے بعد ان کی تصاویر اور دیگر تفصیلات میڈیا کو بھجوا رہی ہے۔ جس کا مقصد ان افراد کو ان کی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر شرمسار کرنا ہے۔ اب تک متعدد افراد کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔

ڈاکٹر کی آئسولیشن وارڈ میں 25 سالہ لڑکی کے ساتھ 2دن تک زیادتی

 بھارت میں ڈاکٹر نے آئسو لیشن وارڈ میں موجود لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق یوں تو بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آنا عام بات سمجھی جاتی ہے،لیکن ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کی لپیٹ میں ہے،ایسے میں بھارت میں درندہ صفت لوگ خواتین پر یہ ظلم کرنے سے باز نہیں آئے،بھارت کے ضلع گایا میں آئسو لیشن وارڈ میں 25 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔
متاثرہ لڑکی کو کورونا وائرس کے شبے میں آئسو لیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا،کچھ دن قیام اور مزید ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ لڑکی کورونا وائرس سے متاثرہ نہیں ہے۔تاہم افسوسناک طور پر لڑکی کا انتقال ہو گیا کیونکہ اسے اسقاط حمل کے عمل سے گزرنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا اور وہ مزید تکلیف نہیں سہہ پائی تھی۔لڑکی کی ساس نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے ساتھ آئسو وارڈ میں زیادتی کی گئی کیونکہ وہ اسپتال سے باہر آنے کے بعد صدمے کی حالت میں تھی اور اپنی آخری سانسوں میں اس نے بتایا کہ مجھے ایک ڈاکٹر نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لی ہے جس کی مدد سے دو ڈاکٹرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 239 ہلاکتیں اور 7 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت وزارت صحت حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مہلک وباء کا شکار مزید 33 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک میں مجموعی اموات کی تعداد 239 ہو گئی ہے جبکہ 686 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 7447 ہو گئی ہے، 643 افراد ڈسچارج ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ بھارت میں مسلسل 18 روز سے لاک ڈائون نافذ ہے۔

Sunday, April 12, 2020

امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس کی کورونا مریضوں آب زمزم فراہم کرنےکی ہدایت

 امام کعبہ شیخ ڈاکٹرعبدالرحمان السدیس نے کورونا وائرس مریضوں آب زمزم فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کی نفسیاتی اور جذباتی مدد کیلئے مقدس پانی فراہم کیا جائے، جہاں بھی کورونا مریض ہیں، ان ہسپتالوں میں زمزم پہنچایا جائے۔ حرمین انتظامیہ کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امام کعبہ شیخ ڈاکٹرعبدالرحمان السدیس نے کورونا کے مریضوں کو آب زمزم فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کی دیکھ بھال معاشرتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ کورونا کے مریضوں کو نفسیاتی اور جذباتی مدد فراہم کرنے کے لیے مقدس پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ انتظامیہ کے سربراہ نے متعلقہ ادارے کو ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام ہسپتالوں میں زمزم سپلائی کی جائے جہاں کورونا کے مریض زیر علاج 
مزید برآں سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں مزید 429 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس سے ملک میں مجموعی کیسزکی تعداد 4262 ہوگئی ہے۔
سعودی عرب میں کورونا سے 7 افراد انتقال کرگئے ہیں، جس سے اموات کی تعداد 59 ہوگئی ہے۔اسی طرح حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والے کیسز کی تعداد بھی بڑھتی جار ہی ہے۔ آج 41 مریض مکمل صحت ہوگئے ہیں، جس سے صحت یاب مریضوں کی تعداد761 ہوگئی ہے۔اگر گزشتہ روز رپورٹ ہونے والے کیسز کا آج اتوار کے کیسز سے موازنہ کیا جائے تو 24 گھنٹے میں47 کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔ اور اموات میں بھی 2 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز382 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ گزشتہ روزکورونا وائرس سے متاثر5 افراد انتقال کرگئے تھے۔